Skip to main content

Posts

Showing posts with the label BENEFITS OF ISLAM

Islam is a Tolerant and Easy Religion

  Islam is the religion of mercy and kindness, the religion of tolerance and ease. Allaah has not burdened this ummah (community, nation) with more than it can bear. Whatever good it does, it will be rewarded for it, and whatever evil it does, it will have to bear the burden of that sin, as Allaah says (interpretation of the meaning):  “Allaah burdens not a person beyond his scope. He gets reward for that (good) which he has earned, and he is punished for that (evil) which he has earned” [al-Baqarah 2:286]  Allaah has spared the Muslims any difficulty or hardship in all that He has enjoined upon them. Allaah says (interpretation of the meaning):  “He has chosen you (to convey His Message of Islamic Monotheism to mankind by inviting them to His religion of Islam), and has not laid upon you in religion any hardship” [al-Hajj 22:78]  Every sin that a Muslim commits because he makes a mistake, or forgets, or is forced to do it, is forgiven by Allaah, as Allaah says ...

What is Quran? In Urdu...

  قرآن مجید کلام اللہ ہے جسے اللہ تعالی نے اپنے نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم پرنازل فرمایا تاکہ وہ  لوگوں کو گمراہی سے نوروھدایت کی طرف نکالے جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :  وہ اللہ تعالی ہی ہے جو اپنے بندے پرواضح آیات اتارتا ہے تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے نور کی طرف لے جاۓ    الحدید ( 9 ) ۔ اللہ تبارک وتعالی نے قرآن مجید میں پہلے اور آخری لوگوں اور زمین وآسمان کی پیدائش کی خبریں دی ، اور اس میں حلال وحرام اور آداب واخلاق کے اصول ، اور عبادات و معاملات کے احکام ، انبیاء وصالحین کی سیرت ، کافروں اور مومنوں کی جزاوسزا ، مومنین کے گھر جنت کا وصف اور کافروں کے گھر جہنم کا تفصیلی بیان ہے اور اسے ہرچيز کے بیان کرنے والا بنایا ۔ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :  اور ہم نے آپ پریہ کتاب نازل فرمائ ہے جس میں ہرچیزکا کافی وشافی بیان ہے اور مسلمانوں کے لیے رحمت وخوشخبری ہے    النحل ( 89 ) ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی کے اسماء وصفات اور اس کی مخلوقات اور اللہ تعالی اس کےفرشتوں اورکتابوں اوررسولوں اورآخرت کے دن پرایمان کی دعوت کا بیان ہے ، جیسا کہ فرمان ربا...

What is Quran?

  The Qur’aan is the word of the Lord of the Worlds, which Allaah revealed to His Messenger Muhammad (peace and blessings of Allaah be upon him), to bring mankind forth from darkness into light:  “ It is He Who sends down manifest Ayaat (proofs, evidences, verses, lessons, signs, revelations, etc.) to His slave (Muhammad) that He may bring you out from darkness into light [al-Hadeed 57:9]  Allaah has told us in the Qur’aan the stories of the earlier and later generations and the creation of the heavens and the earth. He has explained in detail what is halaal and what is haraam, the basics of good manners and morals, the rulings of worship and dealings with others, the lives of the Prophets and the righteous, and the reward and punishment of the believers and disbelievers. He has described Paradise, the abode of the believers, and He has described Hell, the abode of the disbelievers. He has made it (the Qur’aan) an explanation of all things: “And We have sent down to you t...

Muharram Islamic new year

  الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على نبينا محمد خاتم الأنبياء وسيد  المرسلين وعلى آله وصحبه أجمعين وبعد سب تعریفات اللہ کے لیے ہیں جوسب جہانوں کا پروردگارہے ، اورسیدالمرسلین ، خاتم الانبیاء ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اوران کی آل اورصحابہ کرام پردرود وسلام کے بعد : یقینا محرم الحرام کا مہینہ عظمت والا اوربابرکت مہینہ ہے ، اسی ماہ مبارک سے ھجری سال کی ابتداء ہوتی ہے اوریہ ان حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے جن کے بارہ میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے : { یقینا اللہ تعالی کے ہاں مہینوں کی تعداد بارہ ہے اور( یہ تعداد ) اسی دن سے ہے جب سے آسمان وزمین کواس نے پیدا فرمایا تھا ، ان میں سے چارحرمت وادب والے مہینے ہیں ، یہی درست اورصحیح دین ہے ، تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پرظلم وستم نہ کرو ، اورتم تمام مشرکوں سے جھاد کرو جیسے کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں ، اورجان رکھو کہ اللہ تعالی متقیوں کے ساتھ ہے } التوبۃ (36 ) اورابوبکرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( سال کے بارہ میں مہینے ہیں جن میں سے چارحرمت والے ہیں ، تین تومسلسل ہیں ، ذوا...

The Slogan of Women's Freedom

  کوئی بھی بات اچھی ہے یا بری اُسے جاننے کے لیے اُس بات کی حقیقت کواوراُن کے   نتائج کو مدِّنظر رکھنا بہت ضروری ہے۔شیطان یا شیطان صفت لوگ یا اہلِ شر اور فسادی قسم کے لوگ ،یہ کبھی بھی ہمارے پاس آکر برملا ہم سے یہ نہیں کہیں گےکہ آپ زنا کریں، آپ چوری  کیا کریں یا آپ شراب پیا کریں ۔لیکن وہ راستے ہمارے لیے ضرور آسان کرتے ہیں کہ جن راستوں سے ہم اس زنا اور شراب خوری تک پہنچ سکیں۔  مثال کے طو ر پر عورت کا بازار میں بے پردہ ہو کر جانا ،اس میں کیا حرج ہے؟ عورت کو آپ نے گھر میں کیوں قید کر رکھا ہے ؟عورت اور مرد کا شانہ بشانہ چلنا، عورت کا مرد کے ساتھ دنیا کے کاموں میں شریک ہونا ،جوکہ ایک بہت خوبصورت جھانسا ہے جوعورت کو دیا جاتا ہے کہ مرد اور عورت کو ایک ساتھ بیٹھنے میں کیا مضائقہ ہے ۔بلکہ اگر مرد اور عورت ایک ساتھ بیٹھتے ہیں تو اس میں تو ایک دوسرے کے حوالے سے ان دونوں کےدرمیان  نفسیاتی طور پر تجسس ہی ختم ہو جائے گا۔اگر آپ مرد اور عورت کو علیحدہ کر دیں گے توعورتیں ایک طرف ہوں اور مرد ایک طرف ہوں  تو نفسیاتی طور پ...

Valentine’s Day! World Obscenity Day and our responsibility

  محبت کے نام پر منایا جانے والا عالمی دن، جسے ویلنٹائن ڈے کے نام سے جانا جاتا ہے ، اسے ہر سال 14 فروری کو دنیا بھر میں سرکاری و غیر  سرکاری سطح پر منایا جاتا ہے ۔ اسے لوورز فیسٹیول  ( Lovers Festival )  کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ اس دن کو کسی طور پر محبت کا دن نہیں کہا جاسکتا ، حقیقت یہ ہے  کہ محبتوں کا نہیں بلکہ نفرتوں کے بیج بونے کا عالمی دن ہے کیونکہ اس دن جو کچھ ہوتا ہے،  ان تمام کاموں کا انجام محبت کے بجائے  نفرت ہوتی ہے ، نیز یہ بے حیائی اور فحاشی و عریانیت کا عالمی دن ہے ،اس دن کی بنیاد میں ہی منفی پہلو موجود ہے، کہا جاتا ہے کہ ویلنٹائن نامی ایک پادری جب ایک راہبہ سے عشق کربیٹھا تو اسے گناہ کے لیے یہ کہہ کر آمادہ کیا کہ 14 فروری کو ہم جو کچھ کریں گے گناہ نہ ہوگا اورراہبہ  پادری کی اس بات میں آ گئی اور یہ  دونوں اس گناہ  کے مرتکب ہوگئے ،یقیناً یہ ایسی بے حیائی تھی جسے کوئی قوم و ملت قبول نہیں کرسکتی اور انہیں اس گناہ پر قتل کردیا گیا ،(ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے مزید داستانیں بھی بیان کی جاتی ہیں )  بعد میں اسی مرض میں مبتلا ل...

Feminism and Development

  مغرب نے قوموں کی ترقی کے لئے جس سماجی فلسفہ کو آگے بڑھایا ہے ، اس کا ایک بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ترقی کے عمل میں عورتوں کی شرکت کے بغیر خاطر خواہ نتائج کا حصول ممکن نہیں ہے۔ یہ فقرہ تو تقریباً ضرب ُالمثل کی حیثیت اختیار کرچکا ہے کہ مرد اور عورت گاڑی کے دو پہیوں کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ کہ زندگی کے ہر شعبے میں عورتوں کو مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کے مواقع ملنے چاہئیں۔ درحقیقت اس طرح کے نعرے تحریک آزادیٴ نسواں کے علمبرداروں کی طرف سے شروع میں اُنیسویں صدی کے آغاز میں لگائے گئے تھے جو رفتہ رفتہ بے حد مقبولیت اختیار کر گئے۔ اس زمانے میں عورتوں کا دائرہ کار گھر کی چار دیواری تک محدود تھا اور عورت کا اصلی مقام اس کا گھر ہی سمجھا جاتا تھا۔ اس زمانے کی خاندانی اقدار میں کنبے کی معاشی کفالت کی اصل ذمہ داری مرد پر تھی اورعورت کا بنیادی فریضہ گھریلو اُمور کی انجام دہی، بچوں کی نگہداشت اور اپنے خاوندوں کے آرام و سکون کا خیال اور فارغ وقت میں عمومی نوعیت کے کام کاج کرنے تک محدود تھا۔ تحریک ِآزادیٴ نسواں کے علمبرداروں نے اس صورتحال کو مرد کی ‘حاکمیت’اور عورت کی بدترین ‘غلامی’ سے تعبی...